
بدھ کے ابتدائی حصے میں مارکیٹ کا رجحان غیر یقینی ہے، کیونکہ ٹریڈرز گزشتہ سیشن کی امید پسندی کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ متعدد جغرافیائی سیاسی عوامل سے رسک لینے کی خواہش دباؤ میں ہے۔ ان میں وینزویلا پر قبضے کے بعد گرین لینڈ حاصل کرنے کی امریکی کوششیں، چین کی جانب سے ممکنہ فوجی استعمال کی اشیا کی برآمد پر پابندی کے بعد چین اور جاپان کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، اور روس کی آبدوزوں کی تعیناتی شامل ہیں، جس سے وینزویلا کے قریب امریکہ اور روس کے درمیان سمندری کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکہ کے پہلے جاری کردہ معاشی اعداد و شمار ملے جلے رہے، جبکہ فیڈرل ریزرو (Fed) کے تبصرے زیادہ تر غیر جانب دار رہے۔ تاہم، محفوظ سرمایہ کاری کی طلب نے امریکی ڈالر، سونے اور چاندی کو سہارا دینا جاری رکھا۔ آج یوروزون اور امریکہ کے اہم معاشی اعداد و شمار سے پہلے احتیاط بھی مارکیٹ کے رجحان پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی عبوری حکومت 30–50 ملین بیرل تیل امریکہ منتقل کرے گی، جسے امریکی انتظامیہ کے کنٹرول میں مارکیٹ کی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔
الگ سے، ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کا گرین لینڈ حاصل کرنے کا ارادہ ’’ختم نہیں ہو رہا‘‘۔ وائٹ ہاؤس نے دہرایا کہ گرین لینڈ کا حصول قومی سلامتی کی ترجیح ہے اور کہا کہ ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے دوران اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ڈنمارک سے خریداری یا آزادانہ وابستگی کا معاہدہ کرنے سمیت مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں، جبکہ فوجی کارروائی کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا گیا۔ بعد میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خدشات کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد فوجی کارروائی کے بجائے خریداری پر بات چیت کرنا ہے۔
وینزویلا کے قریب امریکہ کی جانب سے ایک آئل ٹینکر کا تعاقب کیے جانے کے دوران روس نے اس کی حفاظت کے لیے آبدوز بھیجی، جس سے جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھ گئے اور جہاز رانی اور تیل کی مارکیٹوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ چین نے فوجی استعمال کی صلاحیت رکھنے والی اشیا کی برآمد پر پابندی لگا کر جاپان کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھا دی، جس سے جاپانی مینوفیکچررز کے لیے سپلائی چین کے خطرات میں اضافہ ہوا۔
یوکرین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان پیرس میں ہونے والے جغرافیائی سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں اعلامیہ پیرس سامنے آیا۔ سرمایہ کاروں کے لیے اس کا اہم نکتہ یوکرین کو سیکیورٹی کی ضمانتیں دینا تھا۔
امریکہ میں، S&P Global Services Purchasing Managers’ Index (PMI) کی حتمی ریڈنگ کم ہو کر 52.5 پر آگئی، جبکہ رچمنڈ فیڈرل ریزرو کے صدر تھامس بارکن نے کہا کہ مستقبل میں شرح سود کے فیصلے نہایت باریک بینی سے کرنے ہوں گے۔
جاپان میں دسمبر کے دوران سروسز سیکٹر کی ترقی سست پڑ گئی، کیونکہ لاگت کا دباؤ بڑھ گیا۔ Services PMI Business Activity Index، 53.2 سے کم ہو کر 51.6 پر آگیا۔ مئی کے بعد یہ ترقی کی سب سے کم رفتار تھی، جو طلب میں کمی کے ساتھ سروسز کی وجہ سے افراطِ زر برقرار رہنے کی نشاندہی کرتی ہے۔
آسٹریلیا میں نومبر کے Consumer Price Index (CPI) کے اعداد و شمار توقعات سے کم رہے۔ مجموعی CPI کی سالانہ رفتار کم ہو کر 3.4% رہی، ماہانہ CPI میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، جبکہ ٹرمڈ مین سے ناپی جانے والی بنیادی افراطِ زر کی سالانہ شرح معمولی کم ہو کر 3.2% رہ گئی۔ تاہم یہ Reserve Bank of Australia کے ہدف کی حد سے اوپر رہی۔ عمارتوں کی منظوریوں میں ماہانہ بنیاد پر 15% اضافے نے افراطِ زر کے نسبتاً کم اعداد و شمار کے اثر کو جزوی طور پر متوازن کیا۔
ایشیا کی فاریکس مارکیٹوں میں چینی یوآن 32 ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آیا، کیونکہ People’s Bank of China نے روزانہ کی فکسنگ نسبتاً کمزور رکھی اور نرم پالیسی کا مؤقف دہرایا۔ اس میں شرح سود اور Reserve Requirement Ratio (RRR) میں ممکنہ کمی بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق، Reserve Bank of India کی جانب سے اتار چڑھاؤ کم کرنے کے لیے USDINR میں بڑے پیمانے پر مداخلت کے بعد بھارتی روپیہ مضبوط ہوا۔
علاقائی ایکویٹی مارکیٹوں میں بعض حصص مضبوط رہے۔ Hyundai Motor کے حصص 15% بڑھے، جس کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور Nvidia کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ کے درمیان Consumer Electronics Show (CES) میں بات چیت ہوئی۔ جاپان پر چین کی برآمدی پابندیوں کے بعد نایاب زمینی دھاتوں سے وابستہ کمپنیوں کے حصص بھی آگے بڑھے۔
چین بھی توجہ کا مرکز رہا۔ اس نے برآمدی کنٹرول سے متعلق خدشات کے باعث Meta کے USD 2 billion کے مصنوعی ذہانت (AI) معاہدے کا جائزہ لیا، بینکوں کو ناقابلِ وصول ذاتی قرضے فروخت کرنے میں مدد دینے والی پالیسی کو بڑھایا، اور 2026 میں شرح سود اور RRR میں ممکنہ کمی کے اشارے دیے۔
مجموعی طور پر، حالیہ اضافے کے بعد U.S. Dollar Index ایک محدود دائرے میں ہے۔ اس سے EURUSD اور GBPUSD میں فروخت کرنے والوں کو عارضی ریلیف ملا، جبکہ USDJPY پر دباؤ پڑا۔ AUDUSD اکتوبر 2024 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب مضبوط ہے، NZDUSD نیچے آیا، اور USDCAD نے سات روزہ تیزی کا سلسلہ بڑھاتے ہوئے ایک ماہ کی بلند ترین سطح چھو لی۔ خام تیل دو ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، کرپٹو کرنسیز میں کمی آئی، وال اسٹریٹ میں مارکیٹیں بلند سطح پر بند ہوئیں، جبکہ ایشیا پیسیفک کے حصص قدرے نیچے رہے۔



نومبر کے آخر کے بعد اپنی سب سے بڑی گراوٹ کے بعد EURUSD میں فروخت کرنے والوں نے وقفہ لیا، جبکہ ٹریڈرز اہم اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔ ان میں جرمنی کی ریٹیل سیلز، یورو زون کی افراطِ زر، امریکی ADP Employment Change، Job Openings and Labor Turnover Survey (JOLTS) Job Openings، Factory Orders، اور Institute for Supply Management (ISM) Services Purchasing Managers’ Index (PMI) شامل ہیں۔ گزشتہ سیشن میں یورو کی جوڑی نے امریکی ڈالر کی مضبوطی ظاہر کی، جسے جرمنی میں افراطِ زر کے توقع سے کم اعداد و شمار اور یوکرین و گرین لینڈ سے جڑے جغرافیائی سیاسی خطرات نے تقویت دی۔ فیڈرل ریزرو (Fed) کے محتاط بیانات، امریکہ کے ملے جلے اعداد و شمار اور مارکیٹ کی مجموعی بے یقینی بھی آج کے اہم اعداد و شمار سے پہلے EURUSD کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بڑھا رہے ہیں۔
ایک ہفتے میں اپنی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ کے بعد GBPUSD میں فروخت کرنے والوں نے وقفہ لیا۔ یہ جوڑی 18 ستمبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح سے بھی نیچے آئی، جو اوپر بیان کردہ امریکہ کے اہم معاشی اعداد و شمار سے پہلے مارکیٹ کی احتیاط کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی ڈالر کی تیزی رکنے اور جاپانی ین کی محفوظ اثاثے کی حیثیت نے USDJPY کو سہارا دیا۔ خاص طور پر، جاپان کے حالیہ اعداد و شمار سے Bank of Japan کی جانب سے شرح سود بڑھانے کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔
AUDUSD تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب مضبوط ہے اور مسلسل چوتھے دن بڑھا ہے۔ آسٹریلیا کے افراطِ زر کے اعداد و شمار نے Reserve Bank of Australia (RBA) کی شرح سود میں کمی روکنے اور 2026 میں ممکنہ اضافے کے اشارے دیے ہیں۔ دوسری جانب، NZDUSD نیچے آیا جبکہ USDCAD تین ہفتے کی بلند ترین سطح پر مضبوط رہا۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور مارکیٹ کے محتاط رجحان نے ان کرنسیوں پر دباؤ ڈالا۔ چین سے آنے والی ملی جلی خبروں نے AUD، NZD اور CAD کے بارے میں مایوسی میں مزید اضافہ کیا، اگرچہ آسٹریلوی ڈالر فروخت کے دباؤ کا مقابلہ کرتا رہا۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے، توانائی کی ممکنہ سپلائی کے مسائل اور American Petroleum Institute (API) کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ہفتہ وار ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی کے باوجود، خام تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ ٹریڈرز کو خدشہ ہے کہ سیاسی خطرات کو بڑھا چڑھا کر دیکھا جا رہا ہے، عالمی سپلائی وافر ہے اور طلب کمزور رہنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، مارکیٹ کا محتاط رجحان سونے اور چاندی کو سہارا دے رہا ہے۔ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF) کی مضبوط طلب اور تکنیکی بریک آؤٹ بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔
Bitcoin (BTC) نومبر کے وسط کی سطحوں سے مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے، جبکہ Ethereum (ETH) ایک ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آیا ہے، کیونکہ ٹریڈرز کرپٹو مارکیٹ میں پہلے کی امید پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی Bitcoin اور Solana کے نئے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF) فائلنگز سے نمایاں ہے، جن میں Morgan Stanley کا اس دوڑ میں شامل ہونا بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ جاتی قبولیت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے اور قیمتوں کے مسلسل اتار چڑھاؤ کے باوجود ضابطہ بند ڈیجیٹل اثاثوں کی طویل مدتی طلب کو سہارا دیتا ہے۔
دریں اثنا، MSCI نے اپنے کرپٹو ٹریژری انڈیکس میں تبدیلیاں مؤخر کر دی ہیں، جس سے جبری اخراج سے بچا جا سکا ہے۔ اس اقدام سے کرپٹو سے منسلک حصص اور Bitcoin کے متبادل اثاثوں میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے خطرات کم ہوتے ہیں، تاہم طویل مدتی ساختی سوالات بدستور حل طلب ہیں۔
وال اسٹریٹ میں حصص بلند سطح پر بند ہوئے، جنہیں ٹیکنالوجی کے شعبے کے بارے میں امید نے سہارا دیا۔ میموری چپس کے حصص نے بہتر کارکردگی دکھائی—Texas Instruments میں 8% اضافہ ہوا، جبکہ بڑی مارکیٹ ویلیو والی کمپنیوں میں Amazon نے 3.4% اضافے کے ساتھ سبقت حاصل کی۔ اس کے برعکس، آج کے اہم اعداد و شمار سے پہلے جغرافیائی سیاسی خدشات اور محتاط رجحان کے باعث ایشیا پیسیفک کے حصص میں معمولی کمی ہوئی۔ امریکی سپریم کورٹ نے جمعے کو فیصلے کا دن مقرر کیا ہے، جس میں ٹیرف سے متعلق پہلا ممکنہ فیصلہ شامل ہے۔ اس سے جمعے کو جاری ہونے والی Nonfarm Payrolls (NFP) رپورٹ کے بارے میں تجسس مزید بڑھ گیا ہے۔
جرمنی کی ریٹیل سیلز اور یورو زون کے افراطِ زر کے اعداد و شمار سے یورپ میں صارفین کی طلب اور قیمتوں کے دباؤ کی نئی تصویر سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، امریکی لیبر مارکیٹ کے اشاریے—ADP Nonfarm Employment Change، JOLTS Job Openings اور ISM Services PMI—اور امریکی فیکٹری آرڈرز سے ہفتے کے آخر میں Nonfarm Payrolls سے پہلے امریکی معیشت کی رفتار اور لیبر مارکیٹ کے حالات کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
وینزویلا، چین، گرین لینڈ اور روس سے متعلق جغرافیائی سیاسی خبریں، نیز فیڈرل ریزرو (Fed) میں جاری مباحث، مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر رہے ہیں اور اعداد و شمار کے باعث اتار چڑھاؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ ملے جلے اعداد و شمار کے باوجود امریکی ڈالر کی بتدریج بحالی کے پیش نظر، مضبوط اعداد و شمار امریکی ڈالر (گرین بیک) میں مزید اضافے کو سہارا دے سکتے ہیں اور بڑی کرنسیوں اور اینٹی پوڈین کرنسیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں، محفوظ پناہ گاہ کی طلب کے باعث سونا اور چاندی خریداروں کی توجہ حاصل کرتے رہ سکتے ہیں، جبکہ رسک لینے کی رغبت کم ہونے اور امریکی ڈالر مضبوط ہونے پر کرپٹو کرنسیوں میں ایک بار پھر کمی آ سکتی ہے۔
دریں اثنا، مثبت رجحان اور منتخب کمپنیوں کی آمدنی کے باعث حصص میں بتدریج اضافہ جاری رہ سکتا ہے، لیکن طلب سے متعلق مسلسل خدشات اور اضافی رسد کے اندیشوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے خام تیل کو فائدہ پہنچنے کا امکان کم ہے۔
ٹریڈنگ میں قسمت آپ کا ساتھ دے!